ایک دھماکہ ہو اور سپاہی اللہ رکھا گر گیا، اس کاپاوں بارودی سرنگ پر آ گیا ، وہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد کشمیر لائین آف کنٹرول پر اپنے گاوں کی پہاڑیوں پر مویشی چراتا کچھ پنشن بھی مل جاتی اور گزر بسر ہوجاتی۔ جان بچ گئی مگر بہت مشکل ہوئی فوج نے اپنے ریٹائیر سپاہی کی مدد کی اسے چلنے پھرنے کے قابل کردیا۔ جب ستر سال مکمل ہونے پر مکمل پنشن بحال ہوئی تو کئی مہینے سے پنشن ہی نہیں ملی، پرانی پنشن بھی بند ۔۔ طریقہ کار اس طرح کا ہے --- پوسٹ آفس کشمیر، بنک اکاونٹ ، ازاد کشمیر ، کاغزات اور اکاونٹ کی تصدیق ملٹری اکاونٹ آفس لایور, پھر کاغزات واپس کشمیر سولجر بورڈ، سے سنٹر حیدرآباد۔ ان مختلف مقامات اور کئی قسم کے کاغزات جن کاتعلق مختلف محکمہ جات اور دفاتر سے ہے، جن کاسلسلہ کشمیر سے لے کر دور دراز پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ ایک ان پڑھ ، ضعیف "اللہ رکھا" جس کا چلنا بھی مشکل ہے، مریض، اس عمر میں کیا کرے ، کدھر جائے؟ (نام، کوائیف پرائیویسی کی وجہ سے تبدیل)۔
یہ سارا لمبا چوڑا پروسیجر اس لئے ہے کہ پنشن کی ادائیگی میں کوئی فراڈ یا ہیرا پھیری نہ ہو جائے ۔۔۔۔ حکومت پاکستان کے ایک ایک پیسے کا حساب کتاب رکھنا ضروری ہے۔
فوج اپنے جوانوں کا بہت خیال رکھتی ہے، نہ جانے یہ کیسے نظرانداز ہو گیا؟ امید ہے کہ جلد سولجرز کی پنشن کا پروسیجر آسان کردیا جایے گا۔
مگر حکومت پاکستان نے 99 ارب روپے پچھلی سہ ماہی کی ادائیگی آئی پی پی (پاور پلانٹس) کو کیپیسٹی چارجز میں ادا کر دئیے (ضرب چار سے یہ تقریبا 396 ارب روپے سالانہ بنتا ہے جبکہ پاکستان کی تینوں افواج آرمی، نیوی ، ائیرفورس کے 3 ملین پنشنرز کا بجٹ 395 ارب روپیہ ہےa) Keep Reading ......more »